آکولہ میں ورلڈ مالوی فیڈریشن کے اجلاس کا کامیاب انعقاد
ورلڈ مالوی فیڈریشن کا سالانہ اجلاس کامیابی سے اختتام پزیر۔
آکولہ ( بذریعہ وہاٹس ایپ) کل بتاریخ 20 مارچ 2022 کو صبح 11 سے 1بجے کے درمیان درخشاں فنکشن ہال اکوٹ فائل اکولہ میں ورلڈ مالوی فیڈریشن اکولہ کے زیر انصرام گزشتہ 15 ماہ سے کامیابی کے ساتھ چل رہی۔ مالوی تعاؤن باہمی بلاسودی سوسائٹی اکولہ، برادری سے سود کی خباثت کو ختم کرنے کے لئے نعم البدل کے طور پر منظم انداز میں اپنے کاموں کو انجام دے رہی ہیں۔ کل اس کا دوسرا سالانہ اجلاس لیا گیا۔جس میں بڑی تعداد میں برادری کے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز مولوی عمران اشاعتی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ افتتاحی کلمات ورلڈ مالوی فیڈریشن کے نائب صدر و مالوی تعاؤن باہمی بلاسودی سوسائٹی اکولہ کے سیکرٹری محترم رضا احمد خان صاحب نے پیش کرتے ہوئے پروگرام کی غرض وغایت کے ساتھ ساتھ برادری کے بزرگوں کی تعلیمی، مذہبی،معاشی، سماجی و سیاسی سرگرمیوں کو اجاگر کیا جس میں مرحوم حکیم قمر الدین خان صاحب، ضیاء الحق خان صاحب، ناصر اللہ خان صاحب، خان محمد اصغرحسین صاحب، حفیظ اللہ خان بدرصاحب، اشتیاق اللہ خان صاحب کلیان، اقبال اللہ خان صاحب، شکیل احمد خان صاحب اور ایک چھوٹے سے دیہات بساڑ کے کئی بزرگوں نے نمایاں کارنامے انجام دیئے۔ سر کی سوز میں ڈوبی ہوئی آواز تھی کے آج ہم بزرگوں کے انجام دئے گئے کاموں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور WMF کے پلیٹ فارم تلے آجائے بعد از ورلڈ مالوی فیڈریشن اکولہ کے صدر مولانا طفیل احمد ندوی صاحب نے "سود کی جدید شکلیں اور اس کے نقصانات" پر قرآن و احادیث کی روشنی میں۔ بچت گٹ کی لعنت اوراس کی تباہ کاریاں،آن لائن لون، بینک لون،تعاون باہمی کی ضرورت۔
بےروزگاری کاخاتمہ، روزگار کے مواقع بہتر اور معیاری رہائش،باہمی تعارف وتعلق باصلاحیت افرادکی حوصلہ افزائی،ایک دوسرے کے ساتھ حسن ظن اور برادری کی تنظیم نووتشکیل جدید،تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ،وقت کا صحیح استعمال* وغیرہ پرسیر حاصل گفتگو کی اور کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ ورلڈ مالوی فیڈریشن کے نائب صدر نجیب الرحمن خان صاحب نے "برادری کی فلاح و بہبود کے لیے انجام دئے جانے والے پروجیکٹ ایک تعارف" کے موضوع پر برادری کی موجودہ صورت حال کو اجاگر کیا اور حل کے طور پر 4 پروجیکٹ تفصیل کے ساتھ پیش کئے۔ جس سے افرادکوایک vision ملا۔ جس میں،
1- سود سے مکمل نجات حاصل کرنےکانعم البدل مالوی تعاؤن باہمی بلاسودی سوسائٹی اکولہ کوپیش کیا اور اس کے زیادہ سے زیادہ ممبران بنانے پر زوردیا اور یہ چیلنج کیا کہ اگر برادری کے تمام افراد ممبر بن جائے تو ہم اتنا لون دے سکتےکے آپ کو بینکوں سےسود پر اور بیاج سے ایک پیسہ لینے کی نوبت نہیں آئے گی۔ ان شاءاللہ
2- برادری میں آپسی اخوت ومحبت، بھائی چارگی کی فضاء کو عام کیا جائے "سنی سنائی باتوں پر بھروسہ نہ کریں،افواہوں پر توجہ نہ دیں، غیبت اور بہتان سے اجتناب کریں، کسی کی ٹوہ میں نہ لگے،اپنے دلوں کو صاف رکھے،اور معروف میں ایک دوسرے کی کھل کر تعریف و بھر پور تعاون کریں۔ اس سلسلہ میں مالوی میڑھاوا رکھنے کا پروجیکٹ پیش کیا۔
3- برادری میں شادی کے بعد پیدا ہورہے مسائل جو طلاق تک پہنچ رہے ہیں۔ کے سلسلہ میں ہمیں اپنی ذمہ داری کو بحسن خوبی انجام دینے اور بہترین کاونسلنگ کرنے یا کسی سے کروانے کا پروجیکٹ پیش کیا۔
4- برادری کی فلاح و بہبود ساتھ ہی معاشی، تعلیمی اور صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لئےبرادری کا مرکزی بیت المال قائم کرنے کا بھی پروجیکٹ برادرنے پیش کیا۔ جسے الحمد للہ تمام ممبران نے پسند کیا۔
برادر شعیب عتیق الرحمن خان صاحب نے 15 ماہ کی آمد و صرف کو بہت پروفیشنل انداز میں پیش کیاجس میں بتایا کے گزشتہ 15 ماہ میں کل شئر 4٫33٫500 روپئے جمع ہوا، اور اب تک 38 لوگوں کو لون دیا گیا پہلے سال 10 ہزار اور دوسرے سال سے 20ہزار روپئے۔الحمد للہ جو لوگ لون لے رہیں وہ پابندی سے جمع بھی کر رہے ہیں۔اس وقت کیش ان ہینڈ ایک لاکھ چھتیس ہزار روپئے (-/1,36,000) ہے۔ اس موقع پر تمام ممبران نے خوشی کا اظہار کیا۔ برادر کی گفتگو کے بعد سوالات و جوابات کا سلسلہ چلا تمام ممبران نے کھل کر سوالات کئے اور ذمہ داران نے تشفی بخش جوابات دئے۔ موجود ممبران نے اس بلاسودی سوسائٹی میں شہر اکولہ کے تمام خود کفیل افراد کو شامل کروانے کا عزم کیا ساتھ ہی
پوری برادری کو ایک جگہ جمع کرکے پروگرام (مالوی میڑاوا) لینے پر زور دیا، اسی طرح برادری کی فلاح و بہبود تعلیمی،معاشی،سماجی، مذہبی,تہذیبی و ثقافتی مسائل کوحل کرنے کے لئےبرادری کامرکزی بیت المال قائم کرنے پر بھی زوردیا، اس کے بعد تاثراتی سیشن چلا جس میں کفایت اللہ خان صاحب،منذر اللہ خان صاحب، مرزا صابر بیگ صاحب، انتخاب عالم صاحب، تجمل حسین صاحب، اور مموں بھائی نے اس کام کو منظم انداز میں مستقل مزاجی کے ساتھ 15 ماہ سے چلانے پر مبارک باد پیش کی، بھر پور تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور اس کی توسیع اور دیگر پروجیکٹ شروع کرنے کی بات کہیں۔ مولانا طفیل احمد ندوی صاحب نے اظہار تشکر پیش کیا جس میں اللہ رب العزت کی مدد ونصرت کے بعد ذمہ داران و ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی پروفیسر فہیم اللہ خان سر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہماری ایک آواز پر اپنا مکمل ہال بغیر کرایہ کے ہمیں دیا اور دعا پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ نظامت برادر انجینئر راسخ اللہ خان نے کی۔ اس موقع پر WMF کے جنرل سیکرٹری برادر ابو سفیان، شعیب شفیق الرحمن،ارشد اقبال سر شوکت اللہ خان، سلیم اللہ خان، نوید اللہ خان، انجینئر عزیر اوردیگر تمام افراد موجود تھے۔
Allah aise khair k kaam me barkat de
ReplyDelete