شیطان مرا نہیں اسے تا قیامت مہلت ہے
شیطان مرا نہیں
از قلم: طارق ایوبی
شکست خوردہ ذہنیت اور ہر طرح سے دیوالیہ ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی۔ افسوس ہے کس مقام پر کھڑے ہیں ہم اور ہمارے پڑھے لکھے کہلانے والے لوگ۔ کتنے سستے ہیں ان کے جذبات، کتنے بھولے بھالے ہیں، لفظوں سے کھیلتے ہیں، ان کے خوش ہونے کے لیے کوئی بڑی خبر بھی نہیں چاہیے، یہ بیچارے چھوٹی سی خبر پر ہی ایسے مست و مگن ہوتے ہیں کہ اپنے غیر اسلامی غیر اخلاقی اور غیر انسانی مواقف سے نہ صرف پوری قوم پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں بلکہ قوم کو دیوالیہ گھوشت کرتے ہیں، کتنا اچھا لگے گا جب یہ سرخیاں ہوں گی "مسلمان دوسروں کی موت پر خوش ہوتا ہے"
" اسلام میں ہندو کے مرنے پر خوشی منائی جاتی ہے"۔
اسے نفسیاتی کمزوری اور بے روزگاری کے ایک مشغلہ کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔
شیطان نہیں مرا اسے تاقیامت مہلت ہے، اس کے شیطانی نظام سے مقابلہ کے لیے کیا ہے تمہاری تیاری، ایک شخص مر گیا تو اب تمہاری حرکتیں ویسے دسیوں اور کھڑا کر دیں گی، تم خیر پھیلانے کے لیے برپا کیے گئے مگر آخر شر کیوں پھیلانے لگے ۔ تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے وہ ایسا کرتے ہیں، ان کا عمل وہ جانیں ہمارا دینی و اخلاقی نظام کیا اس دیوالیہ پن کی اجازت دیتا ہے ؟
ط۔ایوبی

No comments