دھماکہ خیز مادہ۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
دھماکہ خیز مادہ _______
اسے احتیاط اور حکمت کے ساتھ ناکارہ بنائیے _
![]() |
| ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی |
شاپنگ کمپلیکس میں بہت گہماگہمی تھی _ لوگوں کی بڑی بھیڑ اکٹھا تھی _ اچانک ایک کونے میں بم رکھے ہونے کا شور اٹھا _ لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے _ کچھ سمجھ دار لوگوں نے بم ناکارہ بنانے والے دفتر کو فون کیا _ تھوڑی دیر میں وہاں سے ٹرینڈ افراد پر مشتمل ایک ٹیم آگئی _ انھوں نے اس مشتبہ سامان کا جائزہ لیا _ کسی شرپسند نے بہت ہوشیاری سے دھماکہ خیز مواد چھپاکر رکھا تھا اور اسے ایک ٹائمر سے منسلک کردیا تھا _ ماہر عملہ نے بہت احتیاط کے ساتھ اس ٹائم بم کا جائزہ لیا _ باریکی سے اس کے تاروں کو علیٰحدہ کیا _ اس طرح اسے ناکارہ بنادیا اور ایک خطرہ ٹل گیا ، جو بہت سی جانیں لے سکتا تھا _
خبر آئی ہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ قرآن مجید سے چھبیس (26) آیتوں کو حذف کر دیا جائے ، جو دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہیں ، انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرتی ہیں اور مذہبی منافرت کو بھڑکاتی ہیں _ درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آیتیں اصل قرآن کا حصہ نہیں ہیں ، بلکہ کسی بعد کے زمانے میں ، انہیں قرآن میں شامل کردیا گیا تھا _
یہ درخواست اور یہ مطالبہ ہندوستان میں نیا نہیں ہے _ اس سے پہلے بھی اس کی کوشش ہوچکی ہے ، لیکن عدالتِ عالیہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا _ اب فتنہ انگیزی کے ارادے سے پھر ایسی کوشش کی گئی ہے _ جس طرح سماج میں انتشار اور انارکی پھیلانے کے مقصد سے شرپسند عناصر بم دھماکے کرتے رہتے ہیں اسی طرح تکثیری سماج میں رہنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان منافرت پھیلانے اور ان کے درمیان جنگ و جدال برپا کرنے کے مقصد سے یہ گھناؤنی حرکت کی گئی ہے _
قرآن مجید واحد آسمانی اور الہامی کتاب ہے جو ہر طرح کی تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہے _ اس کی نہ صرف ایک ایک آیت ، بلکہ ایک ایک لفظ ، ایک ایک حرف ، ایک ایک نقطہ اور ایک ایک زیر زبر پیش سکون ، کسی کے زیادہ یا کم ہونے کا شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا _ چودہ سو برس کی تاریخ اس پر شاہد ہے اور اپنوں ہی نہیں ، غیروں نے بھی اسے تسلیم کیا ہے _ اس لیے قرآن کے بارے میں اگر کوئی شخص تحریف کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے دیوانے کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے _
قرآن مجید میں 'قتال' کی آیات پر اس سے پہلے بھی اعتراض کیا جاتا رہا ہے _ علماء نے اس کا سنجیدگی کے ساتھ معقول جواب دیا ہے _ جن لوگوں کو یہ آیات مذہبی منافرت پھیلانے والی لگتی ہیں انہیں قرآن مجید کے ماہرین سے اپنی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _ ایسی باتیں تمام مذہبی کتابوں میں موجود ہیں _ پھر اگر مختلف لوگ اپنی اپنی دانست میں مذہبی کتابوں کی بعض عبارتوں کو قابلِ اعتراض قرار دے کر انہیں نکال دیے جانے کے مطالبے کرنے لگیں تو اس سے کس قدر افراتفری پیدا ہوگی ، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے _
جس شخص نے عدالت میں درخواست دائر کرکے قرآن مجید سے اس کی چند آیات نکالنے کا مطالبہ کرنے کی یہ گھناؤنی حرکت کی ہے اسے سب جانتے ہیں _ اس کا نام چاہے مسلمانوں جیسا ہو ، لیکن اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے _ مسلمان ہونے کے لیے اللہ کی کتاب (قرآن) پر ایمان لانا ضروری ہے _ کسی شخص کو ایسا مطالبہ کرنے سے قبل اسلام سے باہر اپنی جگہ بنالینی چاہیے _ اگر وہ خود ایسا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اس کے ساتھ غیر مسلم جیسا برتاؤ کرنا چاہیے _ اس لیے کہ قرآن پر ایمان کے بغیر کسی شخص کا اسلام معتبر نہیں _
یہ شرانگیزی جان بوجھ کر اور خاص مقصد سے کی گئی ہے _ یہ مذکورہ شخص کی اپنی کارستانی ہوسکتی ہے ، کہ اس نے بعض مفادات حاصل کرنے ، یا اپنے بعض جرائم کی پاداش سے خود کو محفوظ کرنے کے لیے ایسا کیا ہو اور اس کا بھی قوی امکان ہے کہ بعض شرپسند طاقتوں نے اسے اپنا آلۂ کار بنایا ہو ، بہر حال اس پر لعنت بھیجنے ___ اگرچہ وہ واقعی لعنت کا مستحق ہے ___ سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کے سربرآوردہ افراد ، جماعتوں اور تنظیموں کے سربراہوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے :
(1) انہیں اس شر سے خیر کا پہلو نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے _ قرآن مجید پر یہ اعتراض نیا نہیں ہے _ پہلے بھی یہ بات کہی جاتی رہی ہے _ علماء نے اس کا جواب دیا ہے _ اس موضوع پر اردو ، ہندی ، انگریزی اور دیگر مقامی زبانوں میں بڑی چھوٹی بہت سی کتابیں اور کتابچے موجود ہیں _ سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے _ انہیں زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _
(2) اگر عدالت یہ درخواست قبول کرکے مسلمانوں کی دینی جماعتوں کو جواب داخل کرنے کا نوٹس جاری کرتی ہے تو انہیں اس سلسلے میں ایک متحدہ موقف اختیار کرنا چاہیے _ میری رائے میں ایسے کسی نوٹس کا جواب داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے _ مسلمانوں کی نمائندہ جماعتوں کو ایسے کسی معاملے میں فریق بننے سے بچنا چاہیے _
(3) مسلمانوں کو ماورائے عدالت اپنا یہ موقف بہت پُر زور انداز میں رکھنا چاہیے کہ کسی بھی مذہبی کتاب کے بارے میں کسی بھی عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا جانا چاہیے _ یہ مذہبی معاملات میں صریح دخل اندازی ہے ، جس کی اجازت ملک کا دستور نہیں دیتا _ دوسرے مذاہب کے لوگوں کا اپنی مذہبی کتابوں کے بارے میں جو بھی رویّہ ہو ، لیکن مسلمان اپنی مذہبی کتاب (قرآن مجید) سے گہری عقیدت اور وابستگی رکھتے ہیں _ وہ اس کے بارے میں ادنیٰ سا بھی اہانت آمیز رویّہ برداشت نہیں کر سکتے _
(4) اس موقع کو قرآن مجید کے عمومی تعارف کا ذریعہ بنانا چاہیے _ قرآن کو صرف مسلمانوں کی کتاب سمجھا جاتا ہے _ اسے اس طرح پیش کیا جانا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، جس کا خطاب تمام انسانوں سے بے _ یہ ان کی اخروی زندگی کی کام یابی کی طرف رہ نمائی کرتی ہے ، ساتھ ہی اس میں ان کے تمام دنیاوی مسائل کا بھی حل پیش کیا گیا ہے _ مسلم علماء کی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ دور کے پیچیدہ مسائل کا حل قرآن مجید کی روشنی میں پیش کریں _

No comments