پریس نوٹ سے آگے بڑھ کر قوم کے تحفظ اور دفاع کیلئے مضبوط لائحہ عمل کی ضرورت
سخت الفاظ میں مذمتی پریس نوٹ سے آگے بڑھ کر قوم کے تحفظ اور دفاع کیلئے مضبوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
ذوالقرنین احمد
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب بھی کسی خاص یا عام مسلمان پر ظلم ہوتا ہے تو ملی جماعتیں اور تنظیمیں اپنے اپنے بینر کے ساتھ پریس نوٹ جاری کردیتے ہیں اور اس میں سخت مذمت بھی ہوتی ہے اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو تین دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک پریس نوٹ جاری کرکے ہم اپنی ذمہ داری سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ کچھ اخبارات میں بھی خبریں شائع ہوجاتی ہے۔ پھر ایک خاموشی چھا جاتی ہے پھر سے کہی مسلمان پر ظلم ہوتا ہے ہم جاگ جاتے ہیں۔ ملی تنظیمیں جماعتیں حرکت میں آجاتی ہے جب تک ان کا پریس نوٹ تیار نہیں ہوتا انہیں سکون نہیں آتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کے جو حکومت اور حکومت کو چلانے والے پس پردہ فرقہ پرست عناصر جو پوری پلاننگ سے مسلمانوں کو ٹارگیٹ بناتے ہیں تو کیا وہ ہی حکومت پریس نوٹ اور میمورنڈم سے مسلمانوں کو انصاف دلائیں گی!
ایک بات یہ بھی غور کرنے کی ہے کہ ان پریس نوٹ اور میمورنڈم کی اہمیت حکومت کی نظر میں کیا ہے کیا وہ ان سب چیزوں کو سریس لیتے ہیں؟ کیا ملی تنظیموں جماعتوں کے سخت مذمتی الفاظ انکی نیندیں حرام کردیتے ہیں؟ کیا وہ مسلمانوں کے میمورنڈم سے خوفزدہ ہوکر معصوم بے گناہوں کو فوراً رہا کردیتے ہیں؟ نہیں ایسا تو نہیں ہوتا تو پھر ان سب کا حاصل کیا ہے۔ اسکے نتائج کدھر ہے؟ کیوں ملی تنظیمیں جماعتیں کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار نہیں کرتی ہے؟ کیوں ملی تحریکیں اور اسکے ذمہ داران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرتے ہیں؟ اگر آپ کے پریس نوٹ اور میمورنڈم میں لکھے گئے سخت مذمتی الفاظ سے حکومت اور سسٹم میں موجود افراد کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے، تو پھر یہ سب کرکے مسلمانوں کو اعتماد میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ آج اگر انصاف نہیں ملا تو ہم مسلمانوں کے ساتھ سڑکوں پر اترکر چکہ جام کردیں گے۔ ہم پوری شددت کے ساتھ زمین پر احتجاج درج کریں گے۔ صرف میمورنڈم دے کر سوشل میڈیا پر فوٹوز وائرل کردینے سے لیڈری چمک سکتی ہے۔ قوم کے مظلوم مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکتا ہے۔ یہ سب چیزوں اوپر اٹھ کر مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ایسے ہی چلتا رہے گا آپ چاہے کتنے بھی سخت الفاظ میں مذمتی کریں۔ کیونکہ جس سے مطالبہ کر رہے وہ تو غیر ملکی دوروں پر ہے تو کوئی سیرسپاٹے کرتے گھوم رہے ہیں۔

No comments