Breaking News

کس کی شام کس کے ساتھ

 کس کی شام، کس کے ساتھ؟

 نجیب الرحمن خان، آکولہ

(لیکچرار انجمن جونئیر کالج کھام گاؤں)


    ہمارے ملک بھارت میں مختلف مذاہب اور ان کو ماننے والے افراد بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ہر ایک کی اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے جس کو اپنانا اور اس کا اظہار کرنا ضروری ہیں۔لیکن گزشتہ چند صدیوں سے ہمارے ملک میں ہماری اپنی تہذیب کی بجائے مغربی تہذیب کا زور و شور دکھائی دے رہا ہے۔کیونکہ مغربی تہذیب بڑے پیمانے پر اندرونی طور سے کمزور ہوتی جارہی ہے۔

 اخلاقی،معاشی،سماجی اور سیاسی نظام خود انہیں پریشانی میں مبتلاء کئے ہوئے ہیں۔معاشی کمزوری کو دور کرنے کے لیے دیگر ممالک سے مستقل آمدنی حاصل کرنے کے لئے ڈے کلچر کو شروع کیا گیا۔اس کلچر نے جہاں انہیں معاشی طور سے مضبوط کیا وہی ہماری تہذیب کا جنازہ نکال دیا۔یوں تو مختلف ڈیزکی ایک طویل فہرست ہیں۔جس میں سال نو کے آغاز پر ملک کی عوام کو مبارک بادی کے نام پر ایک دوسرے سے قریب لایاجاتا،جس کے لئے ہر چھوٹے بڑے مقام سے کروڑوں روپیہ حاصل کیا جاتاہے۔ایک رات یعنی نیوائیر نائٹ کے نام پر کیا کیا نہیں کیا جاتا۔ 

    ماہ فروری کی 14 تاریخ کو ویلنٹائن ڈے جہاں مغرب کو معاشی طور سے مضبوط کرتا ہے وہیں ہمارے ملک، سماج و معاشرے کو بے حیاء، فحش اور عریاں بناتا ہے۔اس دن اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔نسل نو چاکلیٹ اور مٹھائیوں کا پیکٹ بطور ہدیہ پیش کرکے اپنی محبوباؤں کے ساتھ رات گئے تک کھلے عام مکمل میک اپ ونیم عریاں لباس میں سیر و تفریح،رقص و سرور،شراب نوشی، سگریٹ اور ڈرگس کا استعمال کرتے ہوئے اخلاقی حدود کو پھلانگ کر محبت بھری باتوں میں ایک دوسرے کو گرفتارکرپھولوں کا ہار یا گلدستہ پیش کرکے بے حیاء ہوکر ناجائز حرکتیں کرتیں ہیں۔

افسوس! صد افسوس !!! یہ سماج یہ معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔یاد رکھے یہ وقتی جوش سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں۔۔ خدارا سنبھل جائیے، خالص توبہ کرے اور سماج کی حفاظت کریں۔

         دوسری طرف مغرب نے انسانی زندگی کا تصور Liberalism قرار دیا جس کی وجہ سے خاندان منتشر ہونے لگے۔عورت اور مرد کے میل ملاپ کو آزادی قرار دی گئی۔کوئی بھی مرد کسی بھی عورت سے تعلقات قائم کر سکتا ہے،حتی کے ماں بیٹے سے اور بیٹی باپ سے،ایک دوست دوسرےدوست کی بیوی سے،ساس داماد سے۔ اس Liberalism کے نعرہ کو مضبوطی سے تھامنے میں نوجوان طلباء و طالبات پیش پیش رہے ہیں۔چنانچہ خود ہندوستان میں یہ Liberalism کا نعرہ تیزی سے جڑ پکڑتے جارہاہے۔ چنانچہ ایک ہندوستانی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 16 سے 18 سال کی عمر کے 41 فی صد نوجوانوں نے ناجائز تعلقات استوار کر چکے ہیں، 42 فی صد نوجوان شادی سے قبل جنسی تعلقات کوبرا تصور نہیں کرتے، 10 فی صد ماں باپ ایسے ہیں جو رات بھر اپنے بچوں کو کلبس، پارٹیس میں رات گزارنے کی اجازت دیتے ہیں، 30 فی صد لڑکیاں اپنے تعلقات کا ذکر اپنے ماں باپ سے کرتی ہیں، 70 فی صد نوجوان ایسے ہیں جوناجائز تعلقات رکھتے ہیں، ٹی وی انٹرنیٹ پر عریاں مناظر  دیکھنے کے بعد تقریباً 34 فی صد لڑکے لڑکیاں ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے جنسی عمل کرچکی ہیں، 37 فی صد طلباء وطالبات اپنے آپ کو اسکول میں محفوظ تصور نہیں کرتے۔

۔Dating کے نام پر 57 فی صد نوجوان ریسٹورنٹ، 40 فی صد پارک اور 36 فی صد Fast food جاتے ہیں، 62 فی صد اپنے دوستوں کے ساتھ  Pornography Film/Clip دیکھتے ہیں، ممبئی شہر میں 72 فی صد لڑکے لڑکیاں آپس میں ملتے ہیں تو سیکس پر گفتگو کرتے ہیں، 46 فی صد طلباء پارٹی میں شراب پینے کو پسند کرتے ہیں۔ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد ارتداد کا شکار ہورہی ہیں۔

ویمنس رائٹس کمیشن کے اعدادو شمار یہ خبر دیتے ہیں کہ ہر منٹ پر ایک عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

       تیسری جانب اس بھارتی سماج میں یہ گندا ناسور بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بقول ایس امین الحسن صاحب (دہلی) " دور جدید میں شادی کے یہ متبادلات جو انسانی سماج کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔۔۔لیو ان ریلیشن شپ، بندش سےآزادجنسی رشتہ، زنا، ایک رات کی مہمان نوازی، دوستی اورفائدہ کا تعلق، ہم جنسیت"۔

    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس طوفان میں اچھے اچھے گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں بھی بہہ رہی ہیں۔

    آپ غور کریں کے یہ تمام ڈیز عوام کو فیض پہنچا نےکی بجائے فحاشی اور عریانیت کی تعلیم دے رہیں ہیں۔سماج میں بگاڑ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔اسی لئے آج جرائم کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔


آئیے !جانتے ہیں کہ ارتداد ، فحاشی بے حیائی، عریانیت اور مختلف برائیوں کومعاشرہ سےختم کرنے کے لئے قرآن کیا رہنمائی کرتا ہے۔


سورہ نور آیت نمبر 21 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہےکہ "اے لوگو!جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اس کی پیروی کوئی  کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا"


سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 32 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ"زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت برا فعل اور بڑا ہی برا راستہ ہے"


سورہ نور آیت 30,31 میں ہے کہ

 "اے نبی مومن مردوں سے کہو کے اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے،جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر رہتا ہے ۔اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دوکے اپنی نظریں بچاکر رکھیں،اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھارنہ دکھائیں بجز اس کےجو خود ظاہر ہوجائے،اور اپنے سینوں پراپنی

 اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں"


    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کوئی بھی (نامحرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ملے (ورنہ)ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا" (ترمذی)

   

 سورہ البقرہ آیت 217 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ"تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دےگا،اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے".


         اگر ہم موجودہ معاشرہ کو ارتداد، بےحیائی،مغربی اور فسطائی تہذیب ساتھ ہی فحاشی اور عریانیت سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو منظم طریقہ سے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور اسے سماج میں نافذ کریں۔۔

2 comments:

  1. Please translate in English also and pubish in English newspaper

    ReplyDelete
  2. Allah Ham sab ki Hifazat farmaye
    Aameen

    ReplyDelete