Breaking News

مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر!!! اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

 "إقبال ! تُو نے جو کہی اک اک بات صحیح لیکن،

گلہ کس سے کروں یہاں یک رنگ ہیں مومن..!"


ایک وہ مومن جسے علامہ اقبال جانتے تھے، آج کا یہ مومن جسے ساری دنیا جانتی ہے !

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے شکایت کرتے ہوئے لکھے گئے منقول اشعار، دل تھام کر پڑھیے...

" إقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں...؟"


دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں ؟

ملتا ہے کہاں خوشئہ گندم کہ جلاؤں......


شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا............ ،

کنجکش فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں ؟


ہر داڑھی میں تنکا ہر آنکھ میں ہے شہتیر،

مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر...


توحيد کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں....... ،

اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر


شاہیں کا جہاں آج کرگس کا جہاں ہے.. ،

 ملتی نہیں مُلّا سے مجاہد کی اذاں ہے


مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور،

شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے......؟


مرمر کے سِلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے،

 رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے.


کہنے کو ہر اک شخص مسلماں ہے لیکن،

دیکھو... تو نام کو کہیں کردار نہیں ہے.


بے باکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن،

مکّاری و روباہی پہ اِتراتا ہے مومن...........


جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو،

وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن.....


پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذان سے،

اس بندئہ مومن کو مَیں اب لاؤں کہاں سے....


وہ سجدہِ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو،

اک بار تھا ہم چھٹ گیے اس بارِ گراں سے.....


جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے،

اُگتے ہیں تہہ سایہ گل خار غضب کے............


یہ دیس ہے سب کا.... مگر اِسکا نہیں کوئی... ،

اس کے تنِ خستہ پر تو اب دانت ہیں سب کے.


محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے،

جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے...... . 


تھامے ہوئے ہے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا،

مرمر کے جیے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے..


دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اُٹھا کر،

شمشیر و سنا رکھی ہے طاقوں میں سجا کر.


آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے،

تقدیرِ امم سو گئی طاؤس میں آ کر.


مکّاری و عیّاری و غدّاری و ہیجان...... ،

اب بنتا ہے اِن چار عناصر سے مسلمان.


قاری سے تو کہنا ہے بڑی بات یارو............. ،

اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن.


کردار کا گفتار کا، اعمال کا مومن........ ،

قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن.


سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا کوئی مومن..... ،

ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن.... !!


إقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں ؟

إقبال ! تیرے دیس کا حال کیا سناؤں ؟

‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️

تحریر و پیشکش : افہام.إنڈیا.

No comments