Breaking News

تقریباً ۳۰۰ مظاہرین پر مقدمہ درج، مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں ہوا تھا احتجاج

تقریباً ۳۰۰ مظاہرین پر مقدمہ درج، مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں ہوا تھا احتجاج

        ناندیڑ، ۳۰ ستمبر بروز جمعرات: گزشتہ دنوں مولانا کلیم صدیقی کی بذریعہ ATS بلاوجہ کی گرفتاری کے خلاف دیش بھر میں مولانا کی رہائی کے لئے احتجاج و مظاہرے کئے جارہے، ۲۴ ستمبر بروز جمعہ دوپہر ۳ بجے ناندیڑ کلکٹر آفس کے روبرو آل انڈیا امام کونسل کے زیر اہتمام ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کو تمام سماجی و ملی تنظیموں کی تائید حاصل رہی۔
اس معاملے میں وزیر آباد پولس کانسٹیبل بالاپرساد کاشی ناتھ کی شکایت پر ذمہ داران سمیت ۳۰۰ کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ تعزیرات ہند کی کی دفعہ 188‘ 270‘ 341‘ 34 اور مہاراشٹرکوویڈ ایکٹ 2020 کی دفعہ 11‘ ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایکٹ کی دفعہ 51 (B) او ر مہاراشٹر پولس ایکٹ کی دفعہ 135کے تحت کامریڈ گنگا دھر گائیکواڑ، مفتی حنیف احرار، ایڈوکیٹ عبدالرحمن صدیقی ‘عابد علی محبوب علی‘ عبدالندیم عبدالواحد‘ ابراہیم خان رحیم خان ، حفیظ محمدصدیقی‘ ناصرخطیب، مولانا ایوب قاسمی، شیخ نثار‘ عتیق الرحمن‘ شفیر احمد‘ فیروز پاشاہ چاند پاشاہ‘ سیدنظیر‘ شیخ اعجاز، احمدندیم محمدابراہیم‘ سیدضیاءالدین سیدشجاعت الدین‘ عطاءالرحمن اور دیگر تقریباً ۳۰۰ افراد پر مقدمہ درج کیا گیا، آپ کو بتادے کے اس پہلے بھی مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں ہورہے پرامن مظاہروں پر پولس میں بے چینی اور بوکھلاہٹ پائی گئی ہے اسی ہفتہ میں کاروان امن و انصاف کے جنرل سیکریٹری خان سمیع اللہ صاحب سے بھی اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔

No comments