پرامن مظاہرہ اور پولس کی بےچینی
پرامن مظاہرہ اور پولس کی بےچینی
کاروان امن و انصاف کے جنرل سکریٹری سمیع اللہ خان سے پوچھ تاچھ
✍: - تابش سحر
کوئی ظالم کتنا ہی طاقتور ہوجائے اسے ہر وقت اس بات کا خدشہ لگا رہتا ہے کہ مظلوم بیدار نہ ہوجائے۔ کوئی چنگاری جبر کی کمائی کو خاکستر نہ کردے۔ کوئی نوجوان بغاوت کی بنیاد نہ رکھ دے، کوئی آواز جگانے کا وسیلہ نہ بن جائے لہذا مظلوموں کی ہر چھوٹی بڑی کاوش و تحریک کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے پھر چاہے قانون شرمندہ ہو یا عدالت پشیمان۔
![]() |
| مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں پرامن مظاہرہ |
آج ممبئی میں کاروان امن و انصاف کی جانب سے مولانا کلیم صدیقی حفظہ اللہ کی رہائی کے سلسلے میں ایک پرامن مظاہرہ کیا گیا جس میں انیس بیس افراد شامل تھے لیکن یہ پرامن مظاہرہ، خاموش مطالبہ اور تھوڑے سے مظاہرین پولس کی آنکھوں میں چبھنے لگے۔
پولس نے کاروان کے جنرل سکریٹری جناب سمیع اللہ خان اور نائب صدر مفتی انور خان صاحب سے پوچھ تاچھ کی بعد ازاں پولس اسٹیشن حاضر ہونے کا فرمان جاری کیا۔ جب مذکورہ حضرات تھانے پہنچے تو ان سے پولس نے ایک مرتبہ پھر پوچھ تاچھ کی اور پھر چھوڑ دیا مگر پھر جلد ہی دوبارہ دونوں مؤقر حضرات کو واپس بلوالیا گیا اور اب بھی یہ دونوں ہمدردانِ ملّت قانون کے محافظوں کے حصار میں ہیں۔ کاروان انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں یہ سطر کافی تشویشناک ہے۔ "پولیس کے رویہ اور ہاو بھاؤ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ گرفتار کرنا چاہتی ہے اور سمیع اللہ خان اور مفتی انور خان کے خلاف ایف آئی آر کی تیاری میں ہے۔"
جس دیس میں عصمت کے لٹیرے سادھؤوں کے حق میں پرتشدّد احتجاجات ہوتے ہوں، قاتل و لٹیرے سیاست دانوں کی رہائی کے لیے قومی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہو اسی ملک میں امن و سلام کے داعی کے حق میں اٹھنی والی ہلکی سی آواز جرم کیسے ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے چھوٹے سے احتجاج اور مظاہرے پر پولس کی یہ کاروائی اسی وقت ہوسکتی ہے جب سفید پوش سیاسی لیڈران انہیں مسلّط کردیں۔ اب وقت ہے احتجاجات کو انگیز کرنے کا، آواز میں آواز ملا کر رہائی کا مطالبہ کرنے کا، اللہ سے دعا کرنے کا اور قائدین و خدّامِ قوم بھی اتحاد و اتفاق کے موضوعات پر بیان کرنے کے بجائے خود اتحاد و اتفاق کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوے ایک ساتھ میدان میں آئے اور فقط مقدمات لڑنے کے بجائے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی فکر کرے۔


No comments