Breaking News

کامیابی اور ہم

 کامیابی اور ہم


محسن ذاکر شیخ 

معاون معلم (پی سی ایم سی  ہائی اسکول آکورڈی  پونہ) موبائل: 9730932973

مضمون نگار: محسن ذاکر شیخ

کامیابی کی مکمل تعریف بیان کرنا مشکل کام ہے . لیکن آج ہمارے معاشرے میں طلبہ کے سامنے کامیابی کی چند سورتیں پیش کرنا ضروری ہو گیا ہے . جس کی وجہ سے ہمارے بچے اپنی زندگی کو راہ راست پر رکھ سکیں . صرف ا ّچھی مالزمت کرنا ، زیادہ پیسے کمانا ، زیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنا ، مہنگی چیزوں کو خریدنے کے قا بل بن جانا یا مشہور ہو جانا ، یہ کامیابی نہیں ہے. بلکہ والدین کی فرمانبرداری کرنا ، انکی خوشنودی حاصل کرنا ، ا ّچھی تعلیم حاصل کرنا ، ہمارے ماحول سے اپنا پن ، استاد کی عزت کرنا، با عزت اور صاف ستھری زندگی گزارنا ، حلال رزق حاصل کرنا، کسی کی مدد کرنا ، جیسی باتیں بھی کامیابی ہے . اور میری رائے میں کامیابی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک اس کی تائید نہ کی جائے . یہ ایک بہت ہی الزمی عمل ہے. 

ہمارے مدرسوں میں بھی زیادہ نمبرات حاصل کرنے پر زور دیا جاتا ہے جو تعلیم کا اصل مقصد نہیں ہے ، تعلیم کا اصل مقصد برتاؤ میں تبدیلی ہے . تعلیم کا اصل مقصد صحیح اور غلط ک درمیان کا فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے ، تعلیم کا اصل مقصد ا ّچھے شہری تعمیر کرنا ہے . اور یہ بات استاد سے زیادہ بہتر کون سمجھ سکتا ہے . اگر ہمارے بچے کوئی ا ّچھا کام کرتے ہیں یا کوئی چھوٹی سی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو استاد اور 

والدین کے طور پر یہ ہمارا اولین فرض بن جاتا ہے ک ہم اس عمل کی تعریف کریں یا اس کی شاباشی دیں . اگر ہمارے بچچے کسی مضمون میں کم نمبرات التے ہیں تو انکی حوصلہ افزائی کی جائے تاکے وہ مستقبل میں ذہنی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں . والدین اپنے بچوں سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی زد اور بے وجہ توقع نہ رکھیں . بلکہ انہیں ا ّچھی پڑھائی کے لئے آمادہ کریں ، انکی رہنمائی کریں ، ان سے بات کریں ، انکی پریشانیوں کو سمجھیں اور انہیں ان کے مشکل کاموں میں مدد کریں . انہیں یہ احساس نہ ہونے دیں ک وہ اکیلے ہیں. انکی ہر چھوٹی یا بڑی کامیابی پرانہیں شاباشی دیں . اس عمل سے وہ مستقبل میں ضرور ایسا کام کریں گے ک آپکا سر فخر سے اونچا ہو جاےگا .

 


اس کی مثال میں اس طرح دونگا – سچن تندولکر کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، وہ کرکٹ کی دنیا کے بادشاہ ہیں ، ہندوستان اور عالمی کرکٹ کی دنیا میں سچن ہمیشہ سرے فہرست رہینگے ، ایک بہترین بللے باز کے طور پر انھے دیکھا جاتا ہے. لیکن اگر انکی اسکولی زندگی میں اگر دیکھا جائے تو وہ دسویں جماعت میں ناکام ہوئے تھے. لیکن انکے والدین نے انھے حوصلہ دیا اور انکی رہنمائی کی اور آج نتیجہ آپکے سامنے ہے. والٹ ڈزنی بھی ایسی ہی مثال ہیں ، ٢٢ سال کی عمر میں انھیں ملازمت سے اسلئے نکال دیا گیا کہ وہ ا ّچھا کام کرنے سے قاصر ہیں ، اور آگے چل کر انہوں نے بہترین انیمشن MOUSE MICKY بنایا. اور بہت انعامات جیتے اور ایک بڑی ، DISNEY WALT کمپنی کے مالک بنے .اگر ہمارا طالب علم پڑھائی کے میدان میں کسی مضمون میں پیچھے رہ جاتا ہے تو ضروری نہیں کے زندگی میں کامیاب نہیں ہوگا ، وہ ضرور کسی اور میدان میں اپنے جوہر دکھا سکتا ہے اگر اسکی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی جائے.


فاونڈیشن اسڈیز کیوں؟